میں چونکہ ان کا پڑو سی ہو ں اور خود میری عبادت اور مراقبے میں خلل ہو
تاہے میں نے اپنے عمل اور طریقے کئی آزمائے لیکن میں ناکام رہا آپ کے طریقے
نے ان کا جھگڑا ختم کر دیا ہے اور نفر ت کی آگ محبت میں بدل گئی ہے لہٰذا
یہ عمل لینے کے لیے آپ کو سارے عمل جو میں نے صدیوں کی محنت سے حاصل کیے
ہیں وہ دینے کو تیار ہو ں اتنی دیر میں وہ اونٹ نما کتا جس پر میں سوار تھا
بو لا ہا ں ضرور دیں میں نے پو چھا تم کون ہو کہنے لگا میں لا ہو ت کے
عالم کی ایک مخلو ق ہو ں نہ انسان نہ جن ہو ں سورئہ اخلاص کا عامل ہو ں اب
تک تمہاری دنیاکے حساب کے مطابق میں نے 673 ارب سورئہ اخلاص پڑھ لی ہے۔ پھر
وہ سورئہ اخلاص کے جو فوا ئد اور فضائل بتانے لگے میں خود حیران ہو گیا
پھر کہا کہ میں اب سدا تمہارا خادم ہوں ساری زندگی تمہا ری خدمت کر وں گا ۔
واقعی وہ ابھی تک میرا دوست ہے۔
آخر کا ر میں نے اسے جھگڑا ختم کرنے والی آیت کی اجازت دےدی وہ بہت خو ش
ہوئے میر اما تھا چو م لیا پھر وہ جو اہر اور انمول ہیرے جو ان کے پا س تھے
مجھے دینا شروع کیے۔ یقین جا نیے جن چیزو ں کو آج تک میں نے معمولی سمجھا
تھا وہی میرے لیے قابل قدر بن گئیں میں سنتا جا رہا تھا اور حیران ہو رہا
تھا بہت دیر تک وہ مجھ سے با تیں کر تے رہے پھر انہو ں نے مجھ سے دوستی کا
عہد کیا اور ایک لفظ دیا کہ جب بھی آپ یہ لفظ سانس روک کر پڑھیں گے میں
فوراً حاضر ہوجاﺅں گا۔ آج تک جب بھی ان کی ضرورت پڑی ہے میں نے وہی لفظ
سانس رو ک کر صرف چند با ر کہا تو وہ عامل جن میرے پا س حاضر ہو تے ہیں ۔
سندھی آدمی کی شکل و صورت اور سندھی آدمی کے لباس اور لہجے میں آتے ہیں وہ
کام جو ناممکن ہو کلام الٰہی سے منٹوں میں سلجھا دیتے ہیں میں عامل جن کو
بار بار تکلیف نہیں دیتا لیکن اس باکمال شخصیت کو یاد ضرور کرتا ہوں۔ میرے
پاس ایک سابقہ حکمران آئے کہ میرا فلاں کام کرا دیں میں نے اس عامل جن کو
بلایا اور ان کا کام کرا دیا اب وہ حکمران فوت ہوگئے ہیں۔
اب سنیے اس جھگڑے والے خاندان کی کہانی! جب میں عامل جن سے اجازت لے کر
رخصت ہونے لگا تو انہوں نے مجھے ایک پتھر دیا جو چکنا، چھوٹا سا پتھر تھا
بظاہر عام سا لیکن اس کے فوائد مجھے بتائے کہ آپ جب بھی اس کو زبان لگائیں
گے تو یہ پھل، کھانے یا ڈش کا ذائقہ دے گا اور اسی پھل یا ڈش سے پیٹ بھرے
گا اور اس کے ذائقے کا ڈکار آئے گا میں نے سینکڑوں بار اس پتھر کو آزمایا
واقعی مفید پایا آج تک وہ پتھر میرے پاس ہے۔ ایک بار ایک غریب آدمی حج پر
جارہا تھا اسے میں نے غائب ہونے والی آیت بتائی کہ وہ بغیر رقم کے چلا گیا
اور پتھر دیا 82 دن وہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں رہا اور یہی پتھر اس
کی خوراک کی ساری ضروریات پوری کرتا رہا۔
میں یہ پتھر لے کر رخصت ہوا تو تھوڑے فاصلے پر وہ جھگڑے والا خاندان میرے
تعاقب میں آیا کہنے لگا مجھے اس عامل جن نے بتایا کہ آپ نے ہمارا جھگڑا ختم
کرایا اب ہم میاں بیوی بے شمار بچوں سمیت آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں ہم
غریب ہیں اور تو خدمت کر نہیں سکتے آپ جب بھی ٹھٹھہ کے مکلی کے قبرستان
آئیں ہمارے گھر سے کھانا کھایا کریں۔ میں نے ان سے کئی بار کھانا کھایا
حلال اور طبیب کھانا ہوتا ہے اور خوب لذیذ ہوتا ہے۔ جب بھی جاتا ہوں ضرور
کھاتا ہوں سالہا سال سے وہ خوش و خرم زندگی بسر کررہے ہیں۔
وہ کتا نما اونٹ جب سارے قبرستان کی سیر کرا چکا اور قدرت کے عجائبات دیکھا
چکا تو اب اس نے اڑنا شروع کر دیا، اڑتے اڑتے ایک بہت بڑی غار میں گیا اب
اس کی شکل ابابیل کی طرح ہو گئی اور اندھیرے غار میں اڑتے اڑتے بہت دیر کے
بعد ایک نیا جہاں اور نیا عالم آگیا وہ ایسا عالم تھا کہ میں اس عالم کو
الفاظ کے نقشے میں بیان نہیں کر سکتا وہ انسان نہیں تھے وہاں جنات نہیں تھے
بس کوئی اور مخلوق تھی جس
No comments:
Post a Comment